زومبیوں کی وادی سے | فیضیات از بحراللہ آفریدی

 زومبیوں کی وادی سے!


تحریر: بحراللہ آفریدی

گھر کے سادہ سے آنگن میں، مٹی کے تندور پر روٹیاں پکاتی شاندانہ... ایک معصوم سی لڑکی، جو ابھی دو معصوم بچوں کی ماں بنی تھی۔ صبح سے شام تک چولہا، برتن، کپڑے، بچے... اور شاید کہیں دل کے کسی کونے میں چھپے چند خاموش خواب، جنہیں وہ خود بھی پوری طرح سمجھ نہ پائی ہوگی۔


شاندانہ کو کیا خبر تھی کہ اس کی زندگی کا سورج اچانک یوں غروب ہو جائے گا، اور وہ بھی اپنے ہی سسر کے ہاتھوں۔ جس دہلیز پر اس نے بیٹی سے بہو کا سفر شروع کیا تھا، وہ دہلیز نہیں، اس کے خوابوں کا قبرستان بننے والی تھی۔ وہ شخص، جو محض رشتے میں اس کا سسر تھا، ایک دن کلاشنکوف اٹھائے گھر میں داخل ہوا، اور پلک جھپکتے ہی شاندانہ کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ تندور پر روٹی بناتی ایک معصوم ماں، زمین پر خون میں لت پت پڑی تھی۔ اس بوڑھے درندے نے چند منٹ پہلے محلے کے ایک نوجوان کو بھی گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ دو لاشیں، دو کہانیاں، لیکن اصل کہانی تو ایک ہی تھی، اپنے گناہ چھپانے کی کہانی۔


ہوا یوں کہ اس نوجوان کو علم ہو گیا تھا کہ اس کے گھر کے دروازے کے اندر اس کی ماں اور اس بوڑھے شخص کے درمیان ناجائز تعلقات قائم ہیں۔ راز افشا ہونے کا ڈر تھا۔ چنانچہ درندے نے پہلا وار اس نوجوان پر کیا، تاکہ وہ راز کھولنے کے قابل نہ رہے۔ پھر اپنی بے گناہ بہو کو بھی مار ڈالا تاکہ معاشرے کے سامنے اپنی درندگی کو ‘غیرت’ کا نام دے سکے۔ یہ اعلان کیا گیا کہ "میری بہو اور اس نوجوان کے درمیان ناجائز تعلقات تھے، میری غیرت نے گوارا نہ کیا، اس لیے دونوں کو مار ڈالا۔"


کیونکہ قبائلی علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل کو ایک طرح کا قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔ صدیوں پرانی سوچ کے مطابق اگر مرد اور عورت کو غیرت کے نام پر قتل کیا جائے تو ان کے لواحقین انتقام نہیں لیتے۔ یوں قاتل بھی محفوظ اور تماشہ بھی دفن۔


آج ایک اور قتل کی خبر ملی — شیتل کا قتل۔ دل اندر سے ٹوٹ گیا۔ سوشل میڈیا پر واقعہ جس انداز میں رپورٹ ہوا ہے اس کے مطابق کم از کم شیتل نے تو محبت کی سزا بھگتی، لیکن ہزاروں شیتلیں تو روز محض کسی کی ہوس، کسی کے راز، کسی کے مفاد کی بھینٹ چڑھائی جا رہی ہیں، اور اس پر پردہ ڈالنے کے لیے ‘غیرت’ جیسا مقدس لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔


شاندانہ کا نام فرضی ہے، مگر یہ واقعہ حقیقی ہے، جو قبائلی خطے کے ایک دور دراز گاؤں میں پیش آیا۔ ایک ایسا گاؤں جہاں انسانوں کے جسم میں زومبیز بستے ہیں۔ حیوانیت کی شکل میں ‘غیرت’ کا نقاب اوڑھے سفاک لوگ۔


سوال اس سماج سے ہے کہ کب تک اس طرح مظلوم بیٹیوں، بہوؤں اور بہنوں کے جنازوں کو ‘غیرت’ کا نام دے کر قاتلوں کو تحفظ ملتا رہے گا؟


بحراللہ آفریدی

#فیضیات

Comments

Popular posts from this blog

Talent Scholarship Test 2025-26

A Question for the Opposition? | Faiziyat by Bahrullah Afridi

موجودہ نسلوں کی سماجی درجہ بندی | فیضیات از بحراللہ آفریدی