Posts

Showing posts from July 6, 2025

نمازِ جمعہ کا اصل مقصد ـ ایک فکری یاددہانی | فیضیات از بحراللہ آفریدی

Image
 نمازِ جمعہ کا اصل مقصد — ایک فکری یاددہانی تحریر: بحراللہ آفریدی نمازِ جمعہ محض ایک عبادت نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو درپیش معاشرتی، اخلاقی اور اجتماعی مسائل پر روشنی ڈالی جائے اور ان کے حل کے لیے رہنمائی فراہم کی جائے۔ بدقسمتی سے ہماری بیشتر مسجدوں میں کئی صدیوں سے روایتی خطبوں کا ایک جامد سلسلہ جاری ہے، جس میں نہ وقت کے تقاضوں کا ادراک ہوتا ہے، نہ عوام کی ذہنی و معاشرتی ضروریات کا خیال۔ اس طرزِ خطابت نے جمعہ کو ایک رسمی عبادت بنا دیا ہے، جب کہ یہ دن اصلاحِ معاشرہ کا ایک بھرپور موقع ہونا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جمعہ کے منبر کو وہ مقام دیں جو عہدِ رسالت اور خلافتِ راشدہ میں اسے حاصل تھا — یعنی عوام کی رہنمائی، فکری تربیت اور حالاتِ حاضرہ پر اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت۔  نمازِ جمعہ کا اعلان:  مقام: باڑہ بازار  تاریخ: جمعہ، 11 جولائی  موضوع: "امن – ایک پائیدار انسانی ضرورت" یہ خطبہ پشتو زبان میں ہوگا تاکہ ہر فرد اس پیغام کو دل و دماغ سے محسوس کر سکے۔ خطبے میں امن کی دینی، معاشرت...

پختونخوا میں بدامنی کے خلاف عوامی بیداری: | فیضیات از بحراللہ آفریدی

Image
  پختونخوا میں بدامنی کے خلاف عوامی بیداری:   باڑہ میں 11 جولائی کو بڑا اجتماع متوقع تحریر: بحراللہ آفریدی گزشتہ چند دنوں کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف قبائلی و غیر قبائلی علاقوں میں عوامی اجتماعات اور مظاہروں کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے، جن کا مقصد صرف ایک ہے: امن کا قیام۔ وزیرستان میں ہونے والا حالیہ بڑا عوامی اجتماع، اس کے بعد وادی تیراہ میں منعقد ہونے والا بڑا مظاہرہ، اور اب باڑہ سیاسی اتحاد کی جانب سے 11 جولائی بروز جمعہ کو اعلان کردہ عوامی اجتماع—یہ سب اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خطے کے عوام ایک بار پھر اپنی بقا، خودداری، اور پائیدار امن کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں۔ پس منظر: 25 سالہ بدامنی کا عذاب گزشتہ پچیس برسوں سے خیبر پختونخوا اور خصوصاً سابقہ فاٹا کے عوام بدترین بدامنی، تشدد، اور سیاسی بےحسی کا شکار رہے ہیں۔ ایک طرف غیر ریاستی عسکری تنظیمیں عوامی جان و مال کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں، تو دوسری طرف ریاستی فوجی آپریشنز کے نام پر ان ہی عوام پر زندگی تنگ کی جاتی رہی ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط اس دو طرفہ جبر نے قبائلی عوام کو نفسیاتی، معاشی، اور معاشرتی طور پر کمز...