نمازِ جمعہ کا اصل مقصد ـ ایک فکری یاددہانی | فیضیات از بحراللہ آفریدی


 نمازِ جمعہ کا اصل مقصد — ایک فکری یاددہانی


تحریر: بحراللہ آفریدی

نمازِ جمعہ محض ایک عبادت نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو درپیش معاشرتی، اخلاقی اور اجتماعی مسائل پر روشنی ڈالی جائے اور ان کے حل کے لیے رہنمائی فراہم کی جائے۔

بدقسمتی سے ہماری بیشتر مسجدوں میں کئی صدیوں سے روایتی خطبوں کا ایک جامد سلسلہ جاری ہے، جس میں نہ وقت کے تقاضوں کا ادراک ہوتا ہے، نہ عوام کی ذہنی و معاشرتی ضروریات کا خیال۔ اس طرزِ خطابت نے جمعہ کو ایک رسمی عبادت بنا دیا ہے، جب کہ یہ دن اصلاحِ معاشرہ کا ایک بھرپور موقع ہونا چاہیے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جمعہ کے منبر کو وہ مقام دیں جو عہدِ رسالت اور خلافتِ راشدہ میں اسے حاصل تھا — یعنی عوام کی رہنمائی، فکری تربیت اور حالاتِ حاضرہ پر اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت۔

 نمازِ جمعہ کا اعلان:

 مقام: باڑہ بازار
 تاریخ: جمعہ، 11 جولائی
 موضوع: "امن – ایک پائیدار انسانی ضرورت"

یہ خطبہ پشتو زبان میں ہوگا تاکہ ہر فرد اس پیغام کو دل و دماغ سے محسوس کر سکے۔ خطبے میں امن کی دینی، معاشرتی اور انسانی اہمیت پر گفتگو کی جائے گی، اور موجودہ حالات میں اس کے عملی تقاضوں کو اجاگر کیا جائے گا۔

یاد رکھیں:
خطبہ جمعہ کا مقصد الفاظ کا تکرار نہیں، بلکہ شعور کی بیداری ہے۔
آئیں، مل کر اس منبر کو انسانیت، امن اور فلاح کی دعوت کا مرکز بنائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Talent Scholarship Test 2025-26

A Question for the Opposition? | Faiziyat by Bahrullah Afridi

موجودہ نسلوں کی سماجی درجہ بندی | فیضیات از بحراللہ آفریدی