پختونخوا میں بدامنی کے خلاف عوامی بیداری: | فیضیات از بحراللہ آفریدی

 

پختونخوا میں بدامنی کے خلاف عوامی بیداری:

 باڑہ میں 11 جولائی کو بڑا اجتماع متوقع


تحریر: بحراللہ آفریدی

گزشتہ چند دنوں کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف قبائلی و غیر قبائلی علاقوں میں عوامی اجتماعات اور مظاہروں کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے، جن کا مقصد صرف ایک ہے: امن کا قیام۔

وزیرستان میں ہونے والا حالیہ بڑا عوامی اجتماع، اس کے بعد وادی تیراہ میں منعقد ہونے والا بڑا مظاہرہ، اور اب باڑہ سیاسی اتحاد کی جانب سے 11 جولائی بروز جمعہ کو اعلان کردہ عوامی اجتماع—یہ سب اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خطے کے عوام ایک بار پھر اپنی بقا، خودداری، اور پائیدار امن کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں۔

پس منظر: 25 سالہ بدامنی کا عذاب

گزشتہ پچیس برسوں سے خیبر پختونخوا اور خصوصاً سابقہ فاٹا کے عوام بدترین بدامنی، تشدد، اور سیاسی بےحسی کا شکار رہے ہیں۔ ایک طرف غیر ریاستی عسکری تنظیمیں عوامی جان و مال کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں، تو دوسری طرف ریاستی فوجی آپریشنز کے نام پر ان ہی عوام پر زندگی تنگ کی جاتی رہی ہے۔

کئی دہائیوں پر محیط اس دو طرفہ جبر نے قبائلی عوام کو نفسیاتی، معاشی، اور معاشرتی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ اسکول، ہسپتال، بازار، اور گھر—کسی بھی جگہ کو مکمل محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔ امن کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا کوئی واضح اور پائیدار روڈ میپ نظر نہیں آ رہا۔

عوامی ردعمل: سیاسی ہوش مندی یا بقا کی جنگ؟

ان مظاہروں اور اجتماعات کو صرف "سیاسی سرگرمی" کہنا درست نہیں ہوگا۔ یہ بقا کی جنگ ہے۔ عوام اب یہ پیغام دے رہے ہیں کہ:

> "ہم مزید خون، خوف اور خاموشی نہیں چاہتے۔ ہمیں امن چاہیے، انصاف چاہیے، اور وہ زندگی چاہیے جو پاکستان کے باقی شہریوں کو میسر ہے۔"

باڑہ میں ہونے والا اجتماع بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ سیاسی اتحاد، سماجی تنظیمیں، قبائلی مشران، اور نوجوان سب اس میں شرکت کریں گے تاکہ ایک اجتماعی بیانیہ تشکیل دیا جا سکے: اب اور نہیں!

11 جولائی کا اجتماع: ایک اہم موڑ

تحصیل باڑہ، ضلع خیبر میں ہونے والا اجتماع اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ خطے میں امن و انصاف کے حق میں عوامی اتحاد کا مظہر بن سکتا ہے۔ اگر ریاستی ادارے اور مرکزی حکومت نے ان آوازوں کو سننے میں سنجیدگی نہ دکھائی، تو معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

مختصر تجزیہ: پائیدار امن کیسے ممکن؟

1. ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی دوہری پالیسی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

2. عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے آپریشنز صرف بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔

3. مکمل عدالتی اور آئینی عملداری کے بغیر قبائلی علاقوں میں امن ممکن نہیں۔

4. تعلیم، روزگار، اور صحت کے مواقع کی بحالی کے بغیر معاشرتی بحالی ادھوری رہے گی۔

آخری بات: امن اب ایک سیاسی نعرہ نہیں، عوامی مطالبہ ہے!

اگر موجودہ عوامی لہر کو نظرانداز کیا گیا، تو یہ مایوسی میں بدلے گی، اور مایوس عوام کسی بھی ریاست کے لیے خطرناک ترین صورتحال ہوتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ریاستی سطح پر ایک مخلصانہ مکالمے، اعتماد سازی، اور عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے۔

فیضیات


Comments

Popular posts from this blog

Talent Scholarship Test 2025-26

A Question for the Opposition? | Faiziyat by Bahrullah Afridi

موجودہ نسلوں کی سماجی درجہ بندی | فیضیات از بحراللہ آفریدی