فضائی آلودگی یا زہر قاتل! | فیضیات از بحراللہ آفریدی
#فضائی_آلودگی_یا_زہر_قاتل!
تحریر: بحراللہ آفریدی
زندہ رہنے کے لیے انسان کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے: خوراک، پانی اور ہوا یعنی آکسیجن۔ کوئی شخص اگر ہماری خوراک یا پانی میں زہر ملانے کی کوشش کرے، تو اس عمل کو ہم اقدامِ قتل تصور کرتے ہیں، اور اگر اس کے نتیجے میں ہم مر جائیں تو زہر ملانے والے کو قاتل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے شخص پر اقدامِ قتل یا قتل کا مقدمہ درج ہوتا ہے۔ وہ سلاخوں کے پیچھے چلا جاتا ہے۔ مقدمے کی پیروی میں ایک مدت گزر جاتی ہے۔ پھر کہیں جا کر انصاف ملتا ہے یا پیسے کے زور پر انصاف بھی بک جاتا ہے۔ انصاف نہ ملنے پر متاثرین قانون کو ہاتھ میں لے کر خود انصاف لینے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے معاشرہ عدم استحکام کا شکار بن جاتا ہے۔
اب تعجب اس بات پر ہے کہ ہوا بھی ہماری خوراک کا حصہ ہے، لیکن اس کو زہر آلود کرنے پر معاشرے میں درجہ بالا ردعمل نہیں پایا جاتا، حالانکہ سال بھر میں کئی ہلاکتیں صرف اسی وجہ سے ہوتی ہیں۔ کارخانوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے زہریلے مادوں کا اخراج ہوا کو زہر آلود کرتے ہوئے پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتا ہے، جو بالآخر ہلاکتوں کا موجب بنتا ہے۔
دوسری طرف حکومت آلودگی کے کنٹرول کے حوالے سے کبھی 'بلین ٹری سونامی' کے نام سے پروگرام کراتی ہے تو کبھی 'ایک بشر، دو شجر' کے عنوان سے تقاریر اور فوٹو سیشن کرائے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں پر اس غریب ملک کے کروڑوں روپے اڑا دیے جاتے ہیں، جبکہ عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ایسا ایک پروگرام گزشتہ ہفتے ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ میں بھی منعقد ہوا، جس میں ایم این اے اقبال آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی 'کلین اینڈ گرین' مہم ہمارے ماحول کی حفاظت، آلودگی کے خاتمے، ایکو سسٹم کی بہتری اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی ایک ایسی سوچ ہے جس کے ثمرات سے آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچے گا، اور یہ پاکستان کو درختوں کی دولت اور ماحول کی خوبصورتی سے سنوارنے کی پالیسی ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خیبر، منصور ارشد نے کہا کہ شجرکاری مہم ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگر درخت نہ لگائے گئے تو پاکستان ریگستان بن جائے گا۔ انسان اور پودے ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ درخت انسان کو آکسیجن مہیا کرتا ہے۔
اگرچہ منصور ارشد کی بحیثیت ڈی سی خیبر تعیناتی حال ہی میں ہوئی ہے، لیکن پھر بھی اس تقریب کے لیے جاتے وقت شاید ان کو باڑہ کی آکسیجن کا زہریلا پن محسوس نہ ہوا ہوگا کہ پودوں کے لگانے کے ساتھ ساتھ ان غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف بھی بات کر لیتے، جو آکسیجن کو مسلسل زہر آلود کر رہی ہیں۔
ایم این اے اقبال آفریدی نے بھی اس حوالے سے ابھی تک کوئی کام نہیں کیا ہے، حالانکہ وہ ذمہ دار بندہ ہے اور اس بابت اگر قوانین میں کوئی سقم ہے، تو ان کی ذمہ داری ہے کہ قانون سازی کرے اور فضائی آلودگی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرے۔
اس سے زیادہ افسوس تب ہوتا ہے جب آلودگی کے کنٹرول کے نام پر انہی ضلعی افسران کی ہدایات پر پولیس شاپر کی تلاش میں غریب دکانداروں کی دکانوں پر، اور صوتی آلودگی (لاؤڈ اسپیکر کے استعمال) کی روک تھام کے نام پر غریب ریڑھی بانوں پر تو قانون کا نفاذ کراتی ہے، ان پر چھاپے مارتی ہے اور انھیں گرفتار کرتی ہے، لیکن ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی، جو بڑے پیمانے پر معاشرے کے لیے خطرے کا باعث بن رہے ہیں، اور ان کی بے احتیاطی ان غریب دکانداروں اور ریڑھی بانوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔
جب بعض سوشل ایکٹیوسٹ اس حوالے سے آواز اٹھاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ یہ مافیا قانون پر عمل کرے، بات کو کسی اور طرف لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان کے ٹاؤٹس چیختے چلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کارخانوں نے سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار دیا ہے۔ اگر حکومت ان کو بند کرے تو یہ نوجوان بے روزگار ہو کر نشئی اور جرائم پیشہ بن سکتے ہیں، لہٰذا ہم نے لوگوں کو روزگار دے کر معاشرے پر احسان کیا ہے۔
ان لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ روزگار کے حوالے سے اگرچہ صنعتوں کا ایک بڑا کردار ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہماری صنعتیں اور بھی ترقی کریں۔ کوئی بھی کارخانوں کی بندش کا مطالبہ نہیں کرتا، لیکن چند سو لوگوں کو روزگار دینے کے بدلے ہزاروں لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہرگز دانشمندی نہیں۔ ہونے والے منافع کے تھوڑے حصے کو اگر ضروری ساز و سامان اور فلٹریشن کِٹ پر لگایا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، لیکن شاید اس عمل سے قارون کے خزانے میں کچھ کمی آنے کا اندیشہ ہو۔
اس ضمن میں ایم پی اے باڑہ شفیق آفریدی کے کردار پر بھی سوال اٹھتا ہے کیونکہ ان کے اپنے دفتر پر بھی ہر وقت دھوئیں کے بادل موجود رہتے ہیں، اگرچہ دیگر امور کے حوالے سے وہ کافی فعال نظر آ رہے ہیں۔
خلاصہ کلام:
نڈر اور سنجیدہ حکومتی و انتظامی افسران فضائی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے سخت ایکشن لیں، اور پورے ملک میں جہاں کہیں بھی غیر قانونی کارخانے ہوں، ان کو قوانین کا پابند کراتے ہوئے اس مسئلے کو حل کریں۔ ایسا نہ ہو کہ معاشرہ ہوا (جو ان کی خوراک ہے) کو مسلسل زہر آلودہ بنانے کے عمل کو اقدامِ قتل سمجھ کر قوانین کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔
نوٹ: فیضیات کا یہ کالم پہلی بار 7 مارچ 2021 کو روزنامہ شہباز، پشاور میں شائع ہوا ہے۔
فضائی آلودگی, ماحولیاتی تحفظ, فیضیات, بحراللہ آفریدی, کالم, پشاور, باڑہ, خیبر, ماحولیاتی مسائل

Comments
Post a Comment