اپوزیشن سے ایک سوال؟ | فیضیات از بحراللہ آفریدی
#اپوزیشن_سے_ایک_سوال؟
تحریر: بحراللہ آفریدی
یہ سوال کچھ عرصہ پہلے بھی میں نے اٹھایا تھا، لیکن شاید اس کی اہمیت اب اور بھی بڑھ گئی ہے۔ اپوزیشن کی طرح، میں بھی سمجھتا ہوں کہ عمران خان ایک نااہل، ناجائز، نالائق، جعلی، سیلیکٹڈ اور کٹھ پتلی وزیرِ اعظم ہے۔ عمران خان اپنے کئے گئے تمام وعدوں اور لگائے گئے تمام نعروں سے یوٹرن لے چکے ہیں۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر عمران خان میں تھوڑی بھی دوراندیشی، سنجیدگی اور حکومتی بوجھ اٹھانے کی واقفیت ہوتی تو کبھی بھی اسی طرح کے وعدے اور نعرے نہ لگاتے۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان نے بھی جان بوجھ کر پاکستانی جذباتی عوام کو، پچھلے حکمرانوں کی طرح، بیوقوف بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اب جبکہ وہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ "صرف معاملات کو سمجھنے میں ہمیں دو سال لگے"، تو اس سے زیادہ نااہلی اور نالائقی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود بھی پی ٹی آئی کے اکثر کارکنان صرف اس امید پر جی رہے ہیں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ عمران خان کی کابینہ میں تمام پارٹیوں کے لوٹے شامل ہوئے ہیں اور ان میں اکثریت پر کرپشن کے چارجز اب بھی ہیں۔
دوسری طرف، اگر اپوزیشن کی سیاست کو دیکھا جائے تو اپوزیشن دن رات عمران خان کی انہی کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے، جس سے عوام کی تائید کافی حد تک حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں ریکارڈ حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ملک پر بیرونی قرضوں کی حجم کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ تمام اشیاء کی قیمتوں میں 100 سے 500 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ امن و امان کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن رہنما بار بار انہی مسائل کا حوالہ دے رہے ہیں اور اسی کی بنیاد پر عمران خان سے استعفیٰ طلب کر رہے ہیں۔
لیکن میرا سوال ہے: کیا عمران خان کے استعفے سے پاکستان کے مسائل ختم ہو سکتے ہیں؟
میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے، کیونکہ ان سب مسائل کی اصل وجہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال ہے، جس کی بہتری کے حوالے سے ابھی تک اپوزیشن نے سوچا بھی نہیں ہے۔
کیا اپوزیشن میں ایسا کوئی سقراط موجود ہے جو پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کا کوئی فارمولا پیش کرے؟ اگر اپوزیشن پاکستان کے عوام کے ساتھ مخلص ہے، تو انھیں چاہیے کہ سب سے پہلے پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کا فارمولا پیش کرے، اور اس کے بعد ہی عمران خان سے استعفیٰ طلب کرے۔
فرض کریں کہ عمران خان نے استعفیٰ دے دیا اور حکومت کی باگ ڈور اپوزیشن کے ہاتھ میں آگئی، تو تب یہ اپوزیشن غیر ملکی قرضے اتارنے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا کرے گی؟ کیا پھر موجودہ اپوزیشن بھی عمران خان کی طرح واویلا کرے گی کہ "پچھلی حکومتوں نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے؟"
عمران خان نے اقتصادیات کو بہتر بنانے کے نام پر دو کام کیے:
1) مزید قرضے لئے
2) مہنگائی کا طوفان کھڑا کر دیا
لیکن بجائے بہتری کے، ملک کو مزید ڈبو دیا۔
اب اگر یہ دائرہ ایک دفعہ پھر دہرایا گیا — یعنی اپوزیشن بھی عمران خان والا لائحہ عمل اختیار کرے (اور مجھے یقین ہے کہ اپوزیشن ایسا ہی کرے گی، کیونکہ ان کے پاس کوئی فارمولا نہیں ہے اور تمام ملبہ عمران خان پر ہی ڈالا جائے گا) — تو بعد کی بدترین صورتحال سے پاکستان دیوالیہ ہو سکتا ہے، اور اس کا نتیجہ خانہ جنگی کی شکل میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔
خدا نہ کرے پاکستان اس صورتحال تک پہنچ جائے، لیکن اس صورتحال سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اپوزیشن ابھی سے ایک جامع اور قابلِ عمل پلان بنائے۔
اس کے لئے اعلیٰ پائے کے معاشی ماہرین کے ساتھ بیٹھک کرے، ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کا فارمولا طے کرے، اور اس کو عوام کے سامنے پیش کرے۔ اس کے بعد ہی اگر عمران خان سے استعفیٰ طلب کیا جائے تو پاکستانی عوام کو اپوزیشن پر اعتماد کرنے کی وجہ موجود ہوگی۔
اور اگر اپوزیشن صرف عمران خان کی کمزوریوں اور ملکی مسائل کو تختۂ مشق بنائے رکھے، اور اس کے حل کے لیے کوئی میکنزم بنانے میں دلچسپی نہ لے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اپوزیشن بھی پاکستانی عوام کے ساتھ مخلص نہیں، اور ایک بار پھر عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہوگا تاکہ اپنے جرائم اور کرپشن پر پردہ ڈال سکے، کیونکہ اس اپوزیشن نے پہلے کیا تیر مارا ہے کہ اب دوبارہ ان کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا جائے۔
اور اگر اتنے سارے نعروں اور وعدوں کے باوجود عمران خان معاشی پالیسی میں ناکام ہو چکا ہے، تو اپوزیشن کے پاس بھی کوئی "علاء الدین کا چراغ" موجود نہیں ہے کہ راتوں رات سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔
حاصلِ کلام: اگر ملکی سلامتی کے اداروں میں دردِ دل رکھنے والے لوگ موجود ہیں، تو پھر ان کو چاہیے کہ معاملات کو ہاتھ سے نکلنے سے پہلے کنٹرول کریں۔ اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے، تمام تعصبات اور ظلم کا خاتمہ کریں، اور لالچی، کرپٹ اور غدار طبقے سے ملک کو چھٹکارا دلائیں تاکہ ملک کو کامیابی کے ایک واضح ٹریک پر ڈالا جا سکے۔
نوٹ: یہ کالم اصل میں اردو زبان میں تحریر کیا گیا تھا اور سب سے پہلے 28 فروری 2021 کو روزنامہ شہباز، پشاور میں شائع ہوا۔
#فیضیات
سیاست, اپوزیشن, عمران خان, پاکستان کا اقتصادی بحران, مہنگائی, استعفیٰ, پی ٹی آئی, ن لیگ, پیپلز پارٹی, فیضیات, Bahrullah Afridi Columns, Urdu Opinion, Political Commentary
#فیضیات #اپوزیشن_سے_ایک_سوال #پاکستان_کا_بحران #BahrullahAfridi #UrduColumns

Sir Maybe you're right
ReplyDeleteThe opposition still have not solve the financial issues!
Deletebuhut khub
ReplyDeletemojoda hakumat jo os waqt opposition me thi, koi khas kaam nahi keya hy enho ne.
ReplyDeletemehngayi ki wahi halaat hy.
ReplyDelete